عجب ضبط یے میرے درد میں
Poet: یاسر ثانی By: یاسر ثانی, Karachiعجب ضبط یے میرے درد میں
کوئی پوچھے تو چلا جاتا ہے
پہلے یوں ممکن نہ تھا ٹھرنا انکا
اب ہر ذخم دل میں بسیرا کر چلا جاتا ہے
کہ بے وجہ تیرے نام سے چھیڑتے ہیں لوگ
یوں ذخموں میں میرے نمک چلا جاتا یے
وہ نہ رکے میرے ارذ اے مکاں میں
کیا فرق پڑتا ہے کون اتا ہے چلا جاتا ہے
میرا دل بھی ہوا کوئی مانند اے شہراہ
کہ کوئی رکتا نہیں کارواں اتا ہے چلا جاتا ہے
یہ راتوں کی گردش بھی کٹ نہیں رہی
نامعلوم سہ شخص خوابوں میں اتا ہے چلا جاتا ہے
یوں ہم بھی ہوے ثانی اے کراچی کہ تیری فرقت کا بادل
برستا نہیں اتا ہے چلا جاتا ہے
عجب ضبط یے میرے درد میں
کوئی پوچھے تو چلا جاتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






