عجب طرز ملاقات تھی

Poet: Saadat Amin Satti By: Saadat Amin Satti, abudhabi

عجب طرز ملاقات اب کی بار رہی
تم تھی بدلی ہوئی یا میری نگاہ تھی

بہت ڈھونڈا ہے شب فراق میں تمہں
نہ تم ملی نہ تیری صدا تھی

میں نے ساتھ نبھایا تیرا ہر سو
مگر میں بھی تنہا تھا تم بھی تنہا تھی

کیا ہوا اچانک کے تم بدل گئی
تمہاری تھی یا دل کی یہ چاہ تھی

بہت تڑپا ہوں تیرے اس فیصلے پر
جدھر سے گزرا ہوں کانٹوں بھری راہ تھی

کچھ تو خیال کر لیتی پرانی محبت کا
کہاں تیرا مسکرانا کہاں وہ تیری حیا تھی

سنا رقیبوں نے تو ہنس کر کہا
اسے تو محبت ہی اس سے بے پناہ تھی

چلو اچھا ہوا سمٹ کے محدود ہو گئی
جس کا چرچا جس کی یاد جا بجا تھی

مانگی بھی تو سعادت اس نے جدائی مانگی
کسی جرم کی پانی ہی مجھے یہ سزا تھی

Rate it:
Views: 789
19 Jan, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL