عجب پاگل سی لڑکی ہے
Poet: Rahi By: Naheem, abudhabiعجب پاگل سی لڑکی ہے
مجھے ہر روز کہتی ہے
بتاؤ کچھ نیا لکھا ؟
کبھی اس سے یہ کہتا ہوں
کہ میں نے نظم لکھی ہے
مگر عنوان دینا ہے
بہت بیتاب ہوتی ہے
وہ کہتی ہے
سنو
میں اسے اچھا سا اک عنوان دیتی ہوں
وہ میری نظم سُنتی ہے
اور اُس کی بولتی آنکھیں
کسی مصرعے، کسی تشبیہ پہ یوں مسکراتی ہیں
مجھے لفظوں سے کرنیں پھوٹتی محسوس ہوتی ہیں
وہ پھر اس نظم کو اچھا سا اک عنوان دیتی ہے
اور اس کے آخری مصرعے کے نیچے
اک اداِ بے نیازی سے
وہ اپنا نام لکھتی ہے
میں کہتا ہوں
سنو
یہ نظم میری ہے
تو پھر تم نے کیوں اپنے نام سے منسوب کر لی ہے
میری ہی بات سن کر اس کی آنکھیں مسکراتی ہیں
وہ کہتی ہے سنو
سادہ سا رشتہ ہے
کہ جیسے تم میرے ہو اس طرح یہ نظم میری ہے
عجب پاگل سی لڑکی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







