عجب کیفیت محبت کے ماروں کی ہے
Poet: Syed Sajid Ali By: Syed Sajid Ali, Lahoreعجب کیفیت محبت کے ماروں کی ہے
کبھی خدا سے سکوں مانگتے ہیں
کبھی پھر وہی جنوں مانگتے ہیں
کبھی حیات جاوداں پہ اُن کی نگاہ
کبھی حیات مستعار میں وصل کی التجاہ
کبھی اپنے ہی دل کے صحرا میں مجنوں کی طرز جینا
کبھی خیال کے نخلستان سے دیدار کے جام پینا
کبھی موسموں کا تغیر دل پر بے اثر
کبھی سیاہ راتوں میں بھی چاند جلوہ گر
کبھی خزاں رُتوں میں طبیعت خوشگوار
کبھی موسم بہار بھی لگے سوگوار
عجب حالت فسوں کے ماروں کی ہے
کبی نگاہ طلسم کے طلبگار
کبھی زلف پیچاں میں گرفتار
یہ کہانی دنیا سے ہاروں کی ہے
عجب کیفیت محبت کے ماروں کی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







