عجب ھیں میرے راستے،کہ چلنا بھی نھیں ممکن
Poet: MZ By: MZ, karachiعجب ھیں میرے راستے،کہ چلنا بھی نھیں ممکن
زرا ٹھوکر جو لگ جائےتو سمبھلنا بھی نھیں ممکن
تیرے چھرہ میری نظروں میں دھندلا نہ ھو جائے
کہ اب بھیگی ھوئی پلکھوں کو ملنا بھی نھیں ممکن
ملے ھیں بعد مدت کے، بلا کے سرد ھیں لھجے
کہ جلنا بھی نھیں ممکن، پگھلنا بھی نھیں ممکن
تعلق ٹوٹ جانے سے امیدیں ٹوٹ جاتی ھیں
دلوں میں حسرتیں لے کر بھلنا بھی نھیں ممکن
بھت ناکامیاں لے کر ھوا ھوں خاک کا قیدی
چلو اب آج سے گھر سے نکلنا بھی نھیں ممکن
اسے اتنا نہ سوچا کر تیری عادت نہ پڑھ جائے
جو ایسی عادتیں ھوں پھر انھیں بدلنا بھی نھیں ممکن
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







