عجیب صورت حالات ہو گئی یارو
Poet: Anwar Kazimi By: anwar kazimi, mississaugaعجیب صورتِ حالات ہو گئی یارو
پھر آ ج اُن سے ملاقات ہو گئی یارو
نظر کے سامنے وہ بن سنور کے بیٹھے ہیں
زہے نصیب کرامات ہو گئی یارو
یہ فیض دیکھئے اُن مہربان آ نکھوں کا
نظر نظر میں مدارات ہو گئی یارو
شکستہ دل تھا بہت ہی اداس تھا بادل
ذرا سی بات پہ برسات ہو گئی یارو
جو اُس سے ملنے کی خواہش کبھی ستاتی تھی
وہ نذرِ گردشِ حالات ہو گئی یارو
وہ چاند آ ج دریچے پہ کیوں نہیں آ یا
ضرور پھر سے کوئی بات ہو گئی یارو
پھر اُس کی یاد میں محفل سجائے بیٹھے ہو
اب اٹھ چکو کہ بہت رات ہو گئی یارو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






