عجیب ہے وادیِ عشق دُور سے بڑی حسین لگتی ہے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaعجیب ہے وادیِ عشق دُور سے بڑی حسین لگتی ہے،
اس کی خوشبو، فضائیں، ہر چیز دل نشین لگتی ہے،
اِس وادی کا ہر فرد الگ انداز سے جیتا ہے،
بُھوک میں دیدار ، پیاس میں زہر پیتا ہے،
بادلوں میں شیطانی ، ہر گھٹا دیوانی ہوتی ہے،
اس میں رہنے والوں کی دل کش کہانی ہوتی ہے،
بنا پَروں کے ہوا میں اُڑنا ، چاند کو چُھونا اچھا لگتا ہے،
اس کا ہر رنگ رنگیلا، بلبل کا بولنا اچھا لگتا ہے،
سچ بتائوں تو یہ سب آنکھ کا دھوکا ہے اور کچھ نہیں،
اس تعلق میں اِک بڑا سودا ہے اور کچھ نہیں،
خوابوں خیالوں میں ہی اچھا ہے اِس کا خیال،
وادیِ عشق تباہ بھی کر دیتی ہے یاد رکھنا نہال،
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






