عرصہ ہوا ہم کو خود سے بچھڑے ہوئے

Poet: farah ejaz By: farah ejaz, Aaronsburg

عرصہ ہوا ہم کو خود سے بچھڑے ہوئے
فرصت کا لمحہ ملتا نہیں
وقت پاس سےگزر جاتا ہے
اپنا سایہ بھی پرایا لگتا ہے
ساری تحریریں بھربھرے کاغظ کی مانند
سارے شعر کھوکھلے نعروں کی مانند
یاسیت میری پہچان بن گئی ہو جیسے

عرصہ ہوا ہم کو خود سے بچھڑے ہوئے
اپنے بھی بیگانے لگتے ہیں
دوست خنجر آستینوں میں چھپائے ملتے ہیں
اجنبی چہروں میں اپنے ہم ڈھونڈتے ہیں
رقیبوں سے اپنے مراسم بننے لگے ہیں
خلوص اب لہجوں سے جھلکتا نہیں
سبق کوئی وفا کا پڑھتا نہیں
ایسے میں ہم تنہا تنہا ہی بھلے لگتے ہیں

عرصہ ہوا ہم کو خود سے بچھڑے ہوئے
بہت عرصہ ہوا ہم کو خود سے بچھڑے ہوئے

Rate it:
Views: 728
07 May, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL