عزت خلوص دوستوں کا پیار چاہیے
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanنفرت نہ بے رخی نہ ہی دھتکار چاہیے
عزت ، خلوص ،دوستوں کا پیار چاہیے
ہاں تھوڑے میں بھی خوش ہوں بہت زندگی کے ساتھ
پیسہ و کاروبار نہ سرکار چاہیے
انکار کر کے چھوڑ دیں مفلس ہوں مین بہت
کہتا ہوں کب کہ آپ کا اقرار چاہیے
یہ سائیکل ہی میرے لیے مرسڈیز ہے
مجھ کو نہ کوئی قیمتی سی کار چاہیے
شہرت و پیسہ آدمی کے لونڈی اور غلام
ہونا بس اس کو تھوڑا سا فنکار چاہیے
پھولوں کو اپنے پیروں سے دیتا ہے جو مسل
چبھنا تو اس کے پاؤں میں پھر خار چاہیے
چٹنی ہی کھا کے میرا گزارہ ہے دوستو !
مجھ کو نہ نقد اور نہ ادھار چاہیے
آسان راستوں پہ چلے کچھ نہ مل سکا
اب تھوڑا سا تو راستہ دشوار چاہیے
پھولوں کی قدر آپ نہ کر پائیں گے حضور
پھر آپ کو کیوں موسم بہار چاہیے ؟
تنہا ہی زندگی کو کرے کب تلک بسر
انسان کو تو زیست میں گھر بار چاہیے
دشمن اگرچہ وار کرے آدھی رات کو
رکھنا تو خود کو دن میں بھی تیار چاہیے
جنگ جیتنے کے واسطے پر عظم ہیں نہت
بس اک ایوبی سا ہمیں سالار چاہیے
سرمایہ دار ملک میں نہ حکمران ہوں
نہ ہی کوئی وڈیرہ و سردار چاہیے
جو دل دکھائے ہو نہیں سکتا وہ میرا دوست
کرنے کو دوستی مجھے دلدار چاہیے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






