عشق
Poet: Faiza Umair By: Faiza Umair, Lahoreایہہ عشق نبھانا بڑا اوکھا
تُو عشق دا روگ کدی لاوی نہ
ع عقل وی ڈھے جاندی اے اس در تے
تُو بھانویں کملا بن بن سوچی جا
ش شرط اے وفا عشق دی
تُو جوگی بھیس ہنڈائی جا
ق قید اے روح وی یار دی یاد وچ
تُو بھانویں لکھ عملاں کرائی جا
ایہہ عشق بڑا ای ظالم اے
کدی ہیر زہر پلا جاندا
ایہہ عشق بڑا ای جابر اے
کدی سسی چھلاں پار کرا جاندا
ایہہ عشق بڑا ای قاتل اے
کدی لیلٰی نوں تڑپا جاندا
ایہہ عشق بڑا ای پاگل اے
کدی فرہاد نہر بہا جاندا
کدی عشق سُولی چڑھا جاندا
کدی یار دے نال ملا جاندا
کدی عالم اے کدی فاضل اے
کدی عشق مومن بنا جاندا
ایہہ عشق دی راہواں بڑی اوکھیاں
تُو اس نوں دل دا روگ بنائی نہ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






