عشق اور احساسیت
Poet: farah ejaz By: farah ejaz, Aaronsburgوحشت جنوں حد سے بڑھ جائے نہ کہیں
یہ دیوانگی کوئی گل اب کھلائے نہ کہیں
تیری نفرتیں یہ تیری بےگانگی ظالم
احساس کے نازک تار توڑ ڈالے نہ کہیں
دل جلانا حسینوں کا چلن ہی سہی
پر دل لگی روگ تیرا بن جائے نہ کہیں
ہر ستم پر دعا دی ہے تجھ کو مگر
ہر دعا بدعا میں بدل جائے نہ کہیں
احساس کے پرتو پر ایک دیا ٹمٹماتا ہوا
نرم ہوا کے جھونکے سے بجھ جائے نہ کہیں
دل ناتواں پر کہہ دو فرح اسقدر ستم نہ ڈھائیں وہ
شاعر میرا حساس ہے بہت مر ہی جائے نہ کہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






