عشق تم جس کی تمنائی تھیں
Poet: Fehmida Riaz By: Shazia Hafeez, Attockعشق تم جس کی تمنائی تھیں
کسی فردوس کا خوش رنگ پرندہ تو نہ تھا
یہ ہے تاریخ سے پہلے کا وہ اندھا عفریت
جو میرے جسم میں در آیا ہے
یہ درندہ جو میرے جسم کی دیواروں کو
اپنے آلودہ نم ہاتھوں سے سہلاتا ہے
اندھے ہاتھوں سے جو ہر لحظ مجھے چھوتا ہے
گرم سانسیں جو شب وروز بھرے جاتا ہے
بھاری پیکر بہت آہستہ سے جنباں ہے مگر
مجھ کو معلوم ہے کس جست کی ہے اس میں تڑپ
بڑی محتاط، بہت آہستہ
انگلیاں پھیر رہا ہے کہ نشاں پائے کرئی
ڈھونڈتا ہے کوئی دروازہ کوئی راہ ملے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






