عشق جو ملا نہیں
Poet: Saqib Nawaz By: M.Saqib Nawaz, RAWALPINDIعشق جو ملا نہیں
تيری بے رُخی کا گلا نہیں
تو وہ عشق تھا جو ملا نہیں
انتہا وہ میرے عشق کی تھی
لوٹنے کی تھی جس میں راہ نہیں
جب عشق ہوا تب جان گئے
کوئی جان کے عاشق بنا نہیں
کہا تو ہوتا میں بے وفا نہیں
میرے عشق کی طلب صلہ نہیں
اب نہ آرزو ہے نہ دُعا میری
تو وہ عشق تھا جو ملا نہیں
تیرے عشق میں خود کو لٹا دیا
میں تیرا جوگی بن کے آہ گيا
کیا حال ہوا میں بے حال ہوا
تو بے وفا یا میں کجا
میرے عشق کی تو یہ سزا نہیں
تو وہ عشق تھا جو ملا نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






