عشق میرا ہے اگر رات کی رانی کی طرح
Poet: ولید By: ولید, Chiniotعشق میرا ہے اگر رات کی رانی کی طرح
حسن اس کا بھی ہے پھولوں کی جوانی کی طرح
اے مری جان وفا تیری وفاؤں کی قسم
تو مجھے یاد ہے نانی کی کہانی کی طرح
کیا کوئی سمجھے ترے حسن کی تہہ داری کو
مجھ پہ کھلتی ہے فقط مصرع ثانی کی طرح
کوچۂ دل سے گزرتی ہیں جو تیری یادیں
اشک بہتے ہیں مری آنکھوں سے پانی کی طرح
چاہتا جب ہوں کوئی نظم کہوں تیرے لئے
میں الجھ جاتا ہوں الفاظ و معانی کی طرح
ہے سوا کون ترے مجھ کو جو تسلیم کرے
میرے محبوب مری تلخ بیانی کی طرح
نہ کوئی شور شرابہ نہ کوئی ہلچل ہے
زندگی لگتی ہے ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح
میں نے اس دل کی تجوری میں رکھا ہے عالمؔ
اس کی ہر چیز کو انمول نشانی کی طرح
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






