عشق کی عداوت سے ہوشیار کون رہتا ہے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiعشق کی عداوت سے ہوشیار کون رہتا ہے
ہاں طوفاں آنے سے پہلے تیار کون رہتا ہے
سبھی روندتے ہیں وقت تلے اپنا جیون
کل قابل تزلزل ہوگی مگر اعتبار کون کرتا ہے
ہم اپنی فوقیت سے تو متبدل نہیں ہوسکتے
وہ کسی واجبیت سے بھی ملیں انکار کون کرتا ہے
آدمی میں تجاوز بغض سے بھی آسکتا ہے
یہ تو عمل کے رنگ ہیں آزمودہ گار کون ہوتا ہے
کون ہے جو اپنے اوپر بھی نگراں رہا ہو
دوسروں کی سپردگی میں ہمکنار کون رہتا ہے
کچھ مفید تقلید ہم بھی جانتے ہیں سنتوشؔ
مگر یونہی مجردوں پہ دھیان کون دھرتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






