عشق کی مار
Poet: مونا شہزاد By: Mona Shehzad, Calgaryزانو میں سر دیے وہ روتی ہوئی لڑکی
تھے جس کے خواب شیشے جیسے
تھی جو خوش رنگ تتلی کی مانند
تھی جو خوش الحان بلبل جیسی
تھی جو مشکبو پھولوں جیسی
تھی جو الہڑ پہاڑی ندی جیسی
تھی بے پروا ،مہتاب جیسی
تھی جس کی آنکھ غزال کو شرماتی
تھی جو مغرور کسی دوردیس کی شہزادی جیسی
آج عشق کے ہاتھوں ہاری
اپنے پندار کی کرچیاں چنتے ہوئے
روتی جاتی اور کہتی جاتی
جا ظلمی! اللہ کرئے تجھے بھی عشق ہوجائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






