عشق کے رنگ میں اُتر آیا
Poet: Gulshad lasi By: Hussain jamot, Lasbela Uthalعشق کے رنگ میں اُتر آیا
پیار میں اس طرح اثر آیا
جس نگر جس گلی نظر ہے گئی
وہ مجھے ہر جگہ نظر آیا
اُن کا ثانی کہیں نہیں کوئی
کوئی اُن سا نہ ہی نظر آیا
چل پڑی تھی ندی وفاوں کی
کوزہ عشق میں بھی بھر آیا
خوف کے بام و در سبھی بند تھے
دل میں جانےکہاں سے ڈر آیا
منٹطر ماں کو میں نے دیکھا ہے
شام کو جب بھی تھک کے گھر آیا
جھک گیا سر ادب سے اے گلشاد
سامنے جب بھی اُن کا درآیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






