عشق کے ماروں کو کورا بدن یاد نہیں
Poet: امیر عثمان By: امیر عثمان, علی پور چٹھہعشق کے ماروں کو کورا بدن یاد نہیں
جیسے اس روح کو من کا چمن یاد نہیں
تم یہ غفلت میں پڑھے ہو کیوں مورکھ بتلاٶں
تم کو کیونکر یہ ترا ہی کفن یاد نہیں
کون جیتا ہے محبت میں اور مرتا ہے کون
عشق والوں کو محب کا زمن یاد نہیں
اجنبی میں ہوں وطن میں مرا کوٸی نہیں
میں مسافر ہوں مجھے وہ وطن یاد نہیں
تو عبادت میں مگن اور ھو میں گُم ہو اَمیر
لوگ سمجھے یہ مگن کو مگن یاد نہیں
وہ ہمارا ہے سجن ہم بھی تو اس کے سجن
بات بگڑی کہ سجن کو سجن یاد نہیں
روز ہنگام مرے سامنے ہوتے نہیں
میری ان آنکھوں کو برما یمن یاد نہیں
سب برابر ہیں سبھی علم والے سنو پر
یہ علم والوں کو ہی انجمن یاد نہیں
تیز طوفان اڑا کر ہوا چلا کہِ
یہ ہوا کی سی سنا سن سنن یاد نہیں
میں محبت کے علم میں پَلا ہوں اے جناب
تیری نفرت کا ہمیں یہ زمن یاد نہیں
تشنہ لب پر ہی نظر ڈال ساقی پِلا دے
تم کو مے خانہ میں کیا دل شکن یاد نہیں
یہ جو دنیا ہے بہت ظلم ڈھاتی ہے مگر
أس جہاں کو بھی قیامت کا دن یاد نہیں
روشنی ہونے نہیں دیتے یہ زیست میں لوگ
تم کسی کہکشاں کے ہو رُکن یاد نہیں
رند انساں ہوں تری بزم کا یار میں بھی
بزمِ رنداں میں چھپا ہم سخن یاد نہیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






