عشق ہے کھیل کھیلنے کے لیے
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالعشق ہے کھیل کھیلنے کے لیے
جیتنے اور ہارنے کے لیے
دمِ رخصت نہ تھا لبوں پہ جنید
اک بہانہ بھی روکنے کے لیے
کاش تیشہ اُدھار دے فرہاد
واسطے گور کھودنے کے لیے
اب چھپانا بھی کیا بھلا تجھ سے
ہے کہاں وقت سوچنے کے لیے
ہر نئی صبح اک نیا دن ہے
بے دلی میں گزارنے کے لیے
گو ترے جاں نثار ہیں پھر بھی
اب لڑے کون جیتنے کے لیے
مجھ کو رکّھا ہوا ہے زخموں نے
چیخنے، خون چاٹنے کے لیے
یاراں! انسان کی ہر اِک کوشش
ہے مقدر سے ہارنے کے لیے
ہر محلے میں ایک ماتم ہے
پر نہیں لوگ پیٹنے کے لیے
آرزو ہے کسی کی زلفوں کی
نوکری ہو سنوارنے کے لیے
کیا فقط درد ہی بنایا ہے
آسماں سے اُتارنے کے لیے
میرے قدموں نے تھک کے بھیجے تھے
راستے اُس کو ڈھونڈنے کے لیے
ہے طلب میری خودسری کو فقط
ناصحا چند ٹوکنے کے لیے
غمِ ہستی نے مار کر ہم کو
گورِ حسرت دی جاگنے کے لیے
رن کو نکلا تو ہوں نہیں معلوم
جنگ ہے کس سے جیتنے کے لیے
اِک گھڑی بھی لکھی ہے فرحت کی
اے خُدا! مجھ سے دِل جلے کے لیے؟
بس پڑھا ہے کتابِ عالم میں
ہیں موافق ستم بھلے کے لیے
میرے حجرے میں رہ گئی دیوار
اور میں سر کو پھوڑنے کے لیے
یاں کوئی ہے ہماری حالت پر
چیخنے اورپُکارنے کے لیے؟
تُو نے انسان کر دیا ایجاد
ایک بھگڈر میں روندے کے لیے
مدعا اب نہیں لبوں پہ جنیدؔ
ہے مگر زہر تھوکنے کے لیے
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






