عشقِ حقیقی
Poet: Bilal Syed By: Bilal Syed, Mansehra KPKدل تیری محبت میں گرفتار ہوا ہے
دنیا کی محبت سے یہ بےبار ہوا ہے
بے خبر تھا تجھ سے یہ خبردار زمانہ
صد شکر کہ اب تیرا خبردار ہوا ہے
کب کون تھا سنتا دل صدپارہ کی فریاد
سب سنتے ہیں جب تو مرا غم خوار ہوا ہے
بےسود دھڑکتا تھا تیرے عشق سے پہلے
کچھ کار کا اب دل میرا بکار ہوا ہے
غیروں سے ہو کیوں شکوہ مجھے غیر تو ہیں غیر
اپنوں سے بھی اب دل مرا بیزار ہوا ہے
نے کچھ یہ بڑھی بات بلال عشق خدا میں
رسوا جو اگر تو سربازار ہوا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






