عقل حیران ہے کیا کیا یہ تقاضا ہوگا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاعقل حیران ہے کیا کیا یہ تقاضا ہوگا
دل کو تقصیر کی ترغیب تماشا ہوگا
انہیں جب غور سے دیکھا تو نہ دیکھا ان کو
مقصد اس پردے کا اک دیدۂ بینا ہوگا
ہم شہادت کا جنوں سر میں لیے پھرتے ہیں
ہم مجاہد ہیں ہمیں موت کا کھٹکا ہوگا
میرا منشا ہے کہ دنیا سے کنارا کر لوں
اے غم دوست بتا تیرا ارادہ ہوگا
بات پر پیچ ہنسی لب پہ شکن ماتھے پر
دل سمجھنے سے ہے قاصر یہ معمہ ہوگا
جو تری زلف پہ جا کر نہ کھلے پھول وہ کیا
جو نہ الجھے ترے دامن سے وہ کانٹا ہوگا
ایک کھلتا ہوا گلشن ہے تمہارا پیکر
تم تبسم ہی تبسم ہو تمہارا ہوگا
وہ فقیروں کو نوازیں نہ نوازیں وشمہ
ہم دعا دے کے چلے آئیں گے اپنا ہوگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






