عقل پر جو نقاب ہے یاروں
Poet: Shahzad anwar khan By: Shahzad anwar khan, Sailani nagar,akola,maharashtra,Indiaقوت علم سے اٹھاؤ ذرا
عقل پر جو نقاب ہے یاروں
آج گھر گھر میں تنگ دستی ہے
ایک ہم پر عزاب ہے یاروں
آگ دل میں حوس کی بھڑکے گی
دور رہنا شباب ہے یاروں
چھوڑنا چاہتا ہوں اسکو مگر
یہ نہ چھوڑے شراب ہے یاروں
بنکے بھنورا اسے ستاتا ہوں
کیا کروں وہ گلاب ہے یاروں
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






