علامہ اقبال کا قوم سے شکوہ
Poet: سرور فرحان سرورؔ By: سرور فرحان سرورؔ, Karachiعلامہ اقبال کا قوم سے شکوہ
کہہ گئے کل رات میرے خواب میں حضرت اقبال
“قوم سے پُوچھو، کیوں میری ذات پہ الزام ہے؟
انتہائی بدوضع، بیکار اور گھٹیا اشعار
لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اِقبال کا کلام ہے
حالانکہ اشعار میرے کہتے ہیں خود برملا
مُسلم اُمہ کی محبت، اَقبال کا پیغام ہے
مقصدیت اور اصلاح ہیں میرے لازم مضمون
کردار کی بُلندی ہی آغاز و انجام ہے
کیوں نہیں پڑھتے، میرے اشعار، میری کُتب سے
بے سروپا شعر کیوں زبانِ زدِ عام ہے؟“
سُن کے اُن کی گُفتگُو، میں نے کہا افسوس سے
“آج کل ہر فارغ شاعر کا خیالِ خام ہے
ہونا ہے مشہور تو اقبال کا بس نام لو
ہر کسی کے دِل کو چھُو لے، یہ وہی تو نام ہے
ذکر اب اِقبال کا فیشن میں ہے شامل مگر
فِکر تھی اقبال کی کیا؟ کس کو اِس سے کام ہے؟
زاغ فطرت لوگ کب شاہیں کی مانند ہو سکیں؟
ہاں بزعمِ خُود اُنہیں ہر بات کا اِلہام ہے
شعر میں سکتہ ہو یا شاعری بے وزن ہو
نام پہ اِقبال کے بِکتا ایسا کلام ہے
قاری بے چارہ بھلا کیونکر پڑھے اصلی کلام
جبکہ دو نمبر اِقبالوں سے اُسے آرام ہے
ذکر شعروں کا تو چھوڑیں، اب ہے حالت قوم کی
قُرآن و حدیث کی تفسیر میں ابہام ہے
مُستند ذرایع سے تصدیق کرے کون اب؟
قوم کو بس فارورڈ میسج کا اِحترام ہے
کاش میری قوم سوچے، مفہوم ہے حدیث کا
‘سُنی سُنائی کو پھیلانا، شیطان کا اِکرام ہے
جھوٹی بات گھڑ کے کہنا، یا بڑھانا سُن کے بس
مُفسدوں، مُنافقوں اور جاہلوں کا کام ہے‘
اے میرے مولا، مُجھے توفیق دے عمل کی بھی
اپنی اور سب کی اصلاح، مومن کا انعام ہے
آج سرور نے کہا جو اُس پہ تھوڑی فکر ہو
تب ہی واللہ خُوب اپنی ہستی کا انجام ہے“
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






