عمر بھرکےلغزشوں کا وہاں حساب ہوگا
Poet: purki By: M.Hassan, karachiجو اس ملک کا گند صاف کرے گا
وہی شخص قائد عوام کہلائے گا
نواز،عمران ہو یا کوئی فوجی
عوام اُسے سر پر بٹھائے گا
کرپشن کرنے والوں کو بخش دینا
ملک و قوم سے انصاف نہ ہوگا
امن و امان کو جو بھی لوٹائے
وہی در اصل قوم کا ہیرو ہوگا
غربت،مہنگائی کو جوختم کرے
وہی اس قوم کا سچّا لیڈر ہوگا
جو مظلوم کا ساتھ دے
وہی کھرا انسان ہوگا
جواداروں کا قبلہ درست کرے
وہی ملک و قوم کا خیرخواہ ہوگا
جومظلوم و مجبور کو حق دلائے
وہی حقیقت میں خلیفہ ہوگا
جو اللہ کو مانے وہ مسلمان ہوگا
جو اللہ کی مانے وہی مومن ہوگا
جواللہ اور رسول کا نافرماں ہو
وہی اصل معنوں میں کافر ہوگا
ہم بٹ گئے ہیں فرقوں فرقوں میں
دِکھاہمیں کونسا سیدھا راستہ ہوگا
قرآن کا یہ واضح پیخام ہےپھربھی
لڑتے ہیں جو صبح و شام جاہل ہوگا
دیکھ رہا ہے ہمیں اللہ اور رسول بھی
وہی ہمارے کرتُوتوں کا عینی گواہ ہوگا
حشر میں کیا منہ دکھاؤگے اپنے رب کو
عمر بھرکےلغزشوں کا وہاں حساب ہوگا
جب تیرے اعضاء ہی تیرے دشمن ہونگے
تیرے ایک ایک عمل کا وہاں تذکرہ ہوگا
میرے اللہ مجھ میں تو یہ حوصلہ نہیں لیکن
پر یہ امید کہ بلانے سے پہلے بخشش ہوگا
اُسکی عظمت ہےکہ توبہ کا در کھلا رکھا ہے
بخش دیں اُنکو جو پہلے سے ہی سوچا ہوگا
تو انسانوں سے پیار کرتا ہے ستر ماؤں جیسی
اسکا بچہ جہنم میں جائے وہ کیوں چاہے گا
کوئی تو آئے یارب جوہم کو سیدھی راہ دکھائے
قتل انسان سے روکو انکو چاہے جو بھی ہوگا
دنیا میں کافر کو بھی جینے کا حق دیا ہے اُس نے
کُن فیکوں کے مالک نے آخرکیوں آزاد چھوڑا ہوگا
غور کرو انکی دنیاوی حالت ہم سے ہے بہتر کیونکر
ہر طرف امن و اماں اور قتل و فساد سے پاک ہوگا
لوگ اجازت کو ترستے ہیں لندن امریکہ جانے کو
ایسے طلب گار ہیں کہ جیسے راہداری جنّت ہوگا
ہم بھی انسان ہیں بلکہ مسلمان بھی ہیں
اپنی بگڑی ہوئی جنّت کو پھر سے بنانا ہوگا
آؤ قرآن کا وہ سبق پھر سے یاد کرو
ہمیں آپس کے تعصّب کو مٹانا ہوگا
وعتصمو بحبل اللہ جمیعاٰوّلا تفرقو
صبح و شام اس آیت کو پڑھنا ہوگا
لا اکراہَ فی الدین کی آیت سنادو سب کو
لڑتے ہوئےلوگوں کو یہ آیت بتانا ہوگا
اسلام کی کشتی کو سب مل کے بچاؤ
لڑانے والے مُلّاؤں کو ہمیں پہچاننا ہوگا
ڈالر کی پرورش ہو یا درہم کی پرورش
ان دین فروشوں کو وطن سے نکالنا ہوگا
اسلام میں قتل اور فساد کی گنجائش ہے ہی کہاں
ان فساد اور جھگڑوں کے اڈّوں کو جلانا ہوگا
رسول پاک نے حکم دیا تھا مسجد ضرّار کو ڈھانے کا
اس دور کے ضرّاروں کو بھی اسی طرح ڈھانا ہوگا
گر چاہتے ہو عزّت سے زندگی جینے کا خواہشمند
ایک دوسرے کے دین ودھرم کا احترام کرنا ہوگا
تعلیم اور ہنر سے آراستہ کر اپنی اپنی نسل کو
ہمیں دیش کے ہر بچے کو مفت تعلیم دینا ہوگا
معلوم نہیں یہ سرکاری ادارے کس مرض کی دوا ہے
ہمیں پھر سے ان سب اداروں کا قبلہ درست کرنا ہوگا
گودیش کو بگاڑنے میں سیاستدان بھی کم نہیں
افسرشاہی اور نوکر شاہی کو بھی سُدھارنا ہوگا
کاروباری طبقہ اور مافیاؤں کی لوٹ مار سے
ہمیں اس دیش کے عوام ایک سسٹم دینا ہوگا
بے موت مر رہے ہیں میرے ملک کے عوام
گمنام قاتلوں کو ہرصورت میں تلاش کرنا ہوگا
کب تک میرے شہر میں یہ سلسلہچلتا رہے گا
قصاص کا قانون نافذ کرو یہ سلسلہ ختم ہوگا
ہماری کھال سے تم اپنی کھال بچاتے ہو
اب جمہوریت کا شعور عوام کو آگیا ہوگا
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا
کوئی فیصلہ تو سنا دے اے عادل
اسیری میں جینا ہے توہین میری
مجھے دار پر تو چڑھا دے اے عادل
کہاں عدل مجھ کو زمیں پر ملے گا
کوئی راستہ ہی دکھا دے اے عادل
مجھے اگلی تاریخ میں اب خدارا
قیامت کا دن ہی بتا دے اے عادل
وہ مجرم ہے اس کی جگہ ہے کٹہرا
اسے تخت سے تو اٹھا دے اے عادل
رِعایا پہ قانون جو چل رہا ہے
وہی حاکموں پہ چلا دے اے عادل
فقط جو کتابوں میں دم لے رہا ہے
وہ قانون سارا جلا دے اے عادل
کہیں میں نہ اپنی عدالت لگا لوں
مرے مجرموں کو سزا دے اے عادل
وکیلوں کا بکنا عیاں ہو چکا ہے
تو اپنی حقیقت دکھا دے اے عادل
کبھی بھاگ پائیں نہ جس سے یہ غاصب
کوئی جیل ایسی بنا دے اے عادل
جہاں قاتل باعزت اور مظلوم بے سکون یہاں
دلیل اگر سچ ہو، تو جرم بن جاتی ہے
جھوٹ اگر بااثر ہو، قسم کھا لی جاتی ہے
لب سِل گئے، قلم توڑا گیا، حق کی بات ٹھکرائی گئی
پھر بھی انصاف کے مندر میں، رام کہانی سنائی گئی
کمرہ عدالت میں منصف تو تھا مگر انصاف نہ تھا
ایک اسٹیج تھا ایک اسکرپٹ تھا ڈر کا تماشا تھا
فیصلے طے تھے پہلے سے فیصلہ ساز بعد میں آیا
سچ کے گواہ مر گئے اور جھوٹا گواہی لے آیا
کیا یاد ہے وہ شخص؟ جو حرفِ حق کہتا تھا
آج اس کا سایہ بھی قید ہے وہ خود کیا کہتا تھا؟
یہ نظام، یہ دربار، یہ نیلامی کا موسم ہے
وہ بازار ہے جہاں سچ کی بولی لگتی ہر دم ہے
مگر سن لو...
اندھوں کی عدالتیں رہتی نہیں قائم ہمیشہ
اندھیرا حد سے بڑھے ضرور سورج چمکتا ہے وہاں
وہ جو سچ ہے وہ اک دن لوٹ کر آئے گا
جو فیصلہ ظالم نے دیا — وقت اُسے مٹائے گا






