عمر گزری ہے اگر ساری وفا دیتے ہوئے
Poet: syed aqeel shah By: syed aqeel shah urdu poetry ghazal, sargodhaعمر گزری ہے اگر ساری وفا دیتے ہوئے
ہونٹ رُک جاتے ہیں کیوں اُس کو دعا دیتے ہوئے
وقت کے ساتھ پرندوں نے بھی فطرت بدلی
خود بھی سو جاتے ہیں بچوں کو غذا دیتے ہوئے
یہ محبت بھی تری طرح منافق تو نہیں
روز ملتی ہے مجھے زخم نیا دیتے ہوئے
وقت پڑنے پہ کبھی کام بھی آ سکتا ہے
سوچنا راہ میں مسافر کو دغا دیتے ہوئے
حبس ہے یا کہ ہے ماحول نزاع کی زد میں
پیڑ کیوں ہانپنے لگتے ہیں ہوا دیتے ہئے
اب بھی ہے دور ِ یزیدی وہی کوفہ وہی شام
لوگ ڈر جاتے ہیں عورت کو ردا دیتے ہوئے
سانسیں جتنی ہیں محشر کا ہیں وہ قرض عقیل
زندگی لیتی ہے محصول بقا دیتے ہوئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






