عکس کی قید
Poet: Abdul Waheed(Muskan) By: Abdul Waheed(Muskan), Haripurوہہ بھی کیسی لڑکی تھی
پانیوں میں بہتی تھی
بادلوں میں رہتی تھی
سانس سانس چلتی تھی
بات بات رہتی تھی
ہونٹ میں ہلاتا تھا
اور وہ مہکتا سا
گیت بنتی جاتی تھی
میں قلم ہلاتا تو
دل کے صاف کاغذ پر
نظم بنتی جاتی تھی
آنکھ کے دریچے میں، چاند بن کے کھلتی تھی
اور میرے خوابوں کی وادیوں میں رہتی تھی
وہ بھی کیسی لڑکی تھی
اپنی موت سے پہلے دوسرے دن آنے کا
وعدہ کر گئی تھی وہ
دوسرا برس لیکن بیتنے کو آیا
پھر بھی وہ نہیں آئی
کیا عجیب لڑکی تھی
آج وہ فنا اوڑھے
خاک کے گھروندے میں
گہری نیند سوئی ہے
ہنستی ہے نہ روتی ہے
بے وفا نہیں لیکن بے وفا سی لگتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






