عہد رفتہ کے رواجوں سے مانوس کہاں ہوں
Poet: habibullah khial By: habibullah khial, islamabadعہد رفتہ کے رواجوں سے مانوس کہاں ہوں
تنہائی کے گوشوں میں بسا اپنا جہاں ہوں
اس ہنگامہ دنیا سے مجھے ہوتی ہے الجھن
آتا نہیں ہے مجھ کو بے کار کے بندھن
پرواز مری سوچ کے گمنام جزیرے
حیران مرے عقل کے دربان و پہرے
میں عقل و خرد سے ہوں بے گانہ و بے نیاز
جزبوں کے سمندر میں غرقاب مرے راز
رواجوں کی گرفت میں مقید یہاں انسان
خود ساختہ عقوبت خانوں میں حیران پریشان
جزبات سے خالی ہیں یہ اخلاص کے نعرے
روابات سڑک پر اور تہزیب ہیں بہرے
ایمان بیچ کھایا یہاں اہل جہاں
تہزیب گھٹنے پر پڑی ہے زپیش جواں
کیوں مجھ میں بسا وحشت و حیران کے زندان
رشتے ہیں پھنسے طمع دیواروں کے درمیان
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






