عید کا دن تو کسی طور گزر جائے گا
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanعید کا دن ہے بہت دور ہیں ہم کیسے ملیں
پھول خوشیوں کے جدائی میں بھلا کیسے کھلیں
چوڑیاں ہاتھوں میں پہناؤں یہی حسرت ہے
کتنی مجبور جدائی میں مری الفت ہے
مری محبوب ! جو آنکھوں کو تری دید نہیں
عید کے دن بھی تمناؤں کی تو عید نہیں
صبح کی طرح مری شام بھی ویراں ہو گی
دل بجھا ہو گا تو مشکل میں مری جاں ہو گی
بن ترے عید کا یہ دن بھی مجھے راس نہیں
کس طرح چین ملے آج بھی تو پاس نہیں
یوں تو رنگوں کی ، گلابوں کی ہے ہر سمت بہار
پر ذرا سا بھی نہیں آج مرے دل کو قرار
اپنے کمرے میں اکیلا ہوں تری یادیں ہیں
بھولی بسری ہوئے منظر ہیں ،تری باتیں ہیں
سوچتا ہوں کہ یہ تہوار مناؤں کیسے
ہو کے تیار کہیں گھر سے میں جاؤں کیسے
کوئی میسج ترا مل جائے مجھے پیار بھرا
فون پر آج کے دن بات ہی تو کر لے ذرا
تری آواز سے کچھ دل کو سکوں آئے گا
عید کا دن تو کسی طور گزر جائے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






