عید کا چاند
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaعید کی خوشیوں کو دوبالا کر دو
اے چاند میرے آنگن میں اُجالا کر دو
بھاگتا آئے وہ میری جانب آج
جادو اُس پے آج نِرالا کر دو
توڑ کے بندشیں وہ لوٹ آئے
منہ رکاوٹوں کا آج کالا کر دو
دل میں جگا آج خوابِ محبت
ہر اِک مزاج محبت والا کر دو
اِس عید پے خواہشیں پُوری کردے
ختم درمیان جو ہے دُھوری کر دے
یا خدایا! باقی کام بُھلا کے تُو
یہ کام میرا بس ضروری کر دے
نہال کو قید کر دے میری وفائوں میں
اور دل پے پیار کا ٹالا کر دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






