عید کے دن
Poet: Mazhar Iqbal Samar By: Mazhar Iqbal Samar, kharian city-GUJRATکوئی عہد پیماں کوئی وعدہ کرنا عید کے دن
تجدید عہد محبت کا ارادہ کرنا عید کے دن
عشق کی آگ میں، میں اکیلا کیوں جلوں
حساب تو آدھا آدھا کرنا عید کے دن
پلکوں تک ہی رہنے دینا یہ آنسو تم
غم نہ اور تم ذیازہ کرنا عید کے دن
میرے جانب ہی تیرے قدم اٹھیں گے
ذرا سفر تو بلا ارادہ کرنا عید کے دن
بن سنور کے میرے پاس ہی آنا تم
دل کو اور دل دادہ کرنا عید کے دن
کوئی پوچھے تو اسی کا نام لینا مظہر
فیصلہ یہ سیدھا سادھا کرنا عید کے دن
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







