عیسیٰ ! معجزہ کوئی تُو بھی دکھا اپنا
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaاب تری باری ہے کوئی فیصلہ سُنا اپنا
آنا ہے یا جانا ہے قدم اُٹھا اپنا
مجھے منضور ہے کہ تجھے میرا ہونا نہیں
پھر اِک کام کر مجھے تُو بنا اپنا
ترے ساتھ میں ہوں ہمیشہ رہونگا جاناں!
یُوں عشق نہ زمانے سے تُو چھپا اپنا
میرا دل جاناں ترے رہنے کا آشیانہ ہے
خیال کر یوں نہ گھر تُو جلا اپنا
میرے اختیار میں اب کچھ بھی رہا نہیں
الٰہی ! کہ طلسم اب کوئی تُو چمکا اپنا
جان ڈال میرے مردہ ارمانوں میں پھر
عیسیٰ ! معجزہ کوئی تُو بھی دکھا اپنا
نہال رو رہا ہے غمِ جاناں میں شام و سحر
خدایا ! اگر ترا ہے بندہ تو بچا اپنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






