غذا سے علاج
Poet: By: M.N.Khalid Major, Islalmabadجہاں تک کام چلتا ہو غذا سے ۔ وہاں تک چاہیئے بچنا دوا سے
اگر خوں کم بنے ، بلغم زیادہ ۔ تو کھا گاجر ، چنے ، شلغم زیادہ
جگر کے بل پہ ہے انسان جیتا ۔ اگر ضعف جگر ہے کھا پپیتا
جگر میں ہو اگر گرمی کا احساس ۔ مربّہ آملہ کھا یا انناس
اگر ہوتی ہے معدہ میں گرانی ۔ تو پی لے سونف یا ادرک کا پانی
تھکن سے ہوں اگر عضلات ڈھیلے ۔ تو فوراً دودھ گرما گرم پی لے
جو دکھتا ہو گلہ نزلہ کے مارے ۔ تو کر نمکین پانی کے غرارے
اگر ہو درد سے دانتوں کے بے کل ۔ تو انگل سے مسوڑھوں پر نمک مَل
جو طاقت میں کمی ہو تی ہے محسو س ۔ تو مصری کی ڈلی ملتان کی چوس
شفا چاہیئے اگر کھانسی سے جلدی ۔ تو پی لے دودھ میں تھوڑی سی ہلدی
اگر کا نوں میں کچھ تکلیف ہو وے ۔ تو سرسوں کا تیل پھائے سے نچوڑے
اگر آنکھوں میں پڑ جاتے ہوں جالے ۔ تو دَکھنی مرچ گھی کے ساتھ کھا لے
تپ دق سے اگر چاہیئے رہائی ۔ بدل پانی کے گنّا چوس بھائی
دمہ میں یہ غذا بے شک ہے اچھی ۔ کٹائی چھوڑ کھا دریا کی مچھلی
اگر تجھ کو لگے جاڑے میں سردی ۔ تو استعمال کر انڈے کی زردی
جو بد ہضمی میں چاہئے تو افاقہ ۔ تو دو اِک وقت کا کر لے تو فاقہ
متحدہ ہندوستان کے شہر راندھیر میں پچاس سال پہلے ایک حکیم کی رائے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






