غرورِ حسن میں شاہی جلال ہوتا ہے
Poet: شہزاد قیس By: Shahzad Qais, لاہورغُرورِ حُسن میں شاہی جلال ہوتا ہے
پری رُخوں کا سبھی کچھ کمال ہوتا ہے
بدن بھی حشر بپا دَھڑکنوں میں کرتا ہے
پھر اُس پہ چلنا قیامت کی چال ہوتا ہے
پناہ بادلوں میں ڈُھونڈتا ہے ماہِ تمام
جو بے حجاب وُہ زُہرہ جمال ہوتا ہے
خدا ہی جانے اُسے چوم لیں تو پھر کیا ہو
جو گال نام سے بوسے کے لال ہوتا ہے
کسی شجر پہ پکے پھل نے مسکرا کے کہا
یہ عشق روزِ اَزل سے وَبال ہوتا ہے
وُہ اَپنے عاشقوں کا ، ذِکر چھیڑ دیتے ہیں
مرے فرار کا جب اِحتمال ہوتا ہے
وُفورِ آرزُو ، دَراَصل زِندگانی ہے
تمنا مرتی ہے تب اِنتقال ہوتا ہے
اَگر وُہ لب نظر آئیں تو زُلف بھی دیکھو
ہر ایک دانے پہ موجود جال ہوتا ہے
جو وَقتِ رُخصتِ محمل ، تھا حال مجنوں کا
کچھ ایسا حال مرا سارا سال ہوتا ہے
نگاہِ قیس سے دیکھو ، ہمیشہ لیلیٰ کو
صنم کسی کا بھی ہو ، بے مثال ہوتا ہے
شہزاد قیس کی کتاب "لیلٰی" سے انتخاب
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






