غریبوں کے لیے چولھا جلانا ہو گیا مشکل

Poet: توقیر اعجاز دیپک By: غلام مصطفیٰ , Lahore

غریبوں کے لیے چولھا جلانا ہو گیا مشکل
یہاں دو وقت کی روٹی کمانا ہو گیا مشکل

یہاں پھر لوگ پتوں سے چھپائیں گے بدن اپنا
یہاں کپڑے سے پیراہن بنانا ہو گیا مشکل

یہاں اینٹوں کے مسکن کا بھلا کیا خواب دیکھیں ہم
یہاں میدان میں خیمہ لگانا ہو گیا مشکل

غلاموں کی نئی کھیپیں یہاں تیار ہوں گی پھر
کہ اب نوخیز نسلوں کو پڑھانا ہو گیا مشکل

وطن کو چھوڑ کر اپنے وہ کیوں پردیس نہ جائیں
یہاں جن کے لیے جانیں بچانا ہو گیا مشکل

یہاں انصاف ملنے کی بھلا امید کیا ہو گی
یہاں چوروں پہ انگلی بھی اٹھانا ہو گیا مشکل

فریب و کِذب کی عینک لگی ہے جن کی آنکھوں پر
انہیں اب آئینہ سچ کا دکھانا ہو گیا مشکل

نہ جانے کون سے مذہب کے جابر حکمراں یہ ہیں
خدا کے نام سے جن کو ڈرانا ہو گیا مشکل

Rate it:
Views: 197
18 Aug, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL