غزل
Poet: Adeel Ahmed Khan By: Adeel Ahmed Khan, Lahoreپیار کرنا ہے قیامت دوستوں کی رائے میں
پھر بھی دل آتا نہیں ہے اب کسی سمجھائے میں
بیتتے جاتے ہیں اپنے اس طرح کچھ روزوشب
یاد کر کر کے اسے ہر اک نئے پیرائے میں
روشنی آتی تو ہے پر جان پہ کیوں چھاتی نہیں
شب میں ڈوبا ہے جہاں اور دل کسی کے سائے میں
پہلے دل ملتا ہے پھر ملتی ہیں روحیں بے نیاز
سود ملتا ہے برابر عشق کے سرمائے میں
پیار جو کرتے ہیں احمد موت سے ڈرتے نہیں
سینچ لیتے ہیں لہو سے خار عشق گلہائے میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







