غزل
Poet: Syed Najaf Ali Sherazi(Udaas Sherazi) By: Sayed Najaf Ali Sherazi, Gujranwalaآنسوؤں میں نہ ڈھونڈو ھمیں تمھیں آنکھوں میں مل جائنیگے
تمناہو نہ گر ملنے کی توبند آنکھوں سے نظر آئیں گے
اگر کرو گے تم ھم سے بے وفائی مگر
ہم تیری راہ میں گل ہی بچھائیں گے
رات گلی و کوچے میں گزار کر صنم
تجھے اک بار ضرور آزمائیں گے
محبت کرو سچی ہمیشہ
ایسے اصول بتائیں گے
آ مدہوش ہوجائیں اپنی جوانی میں
دیتے ھیں اک دوجے کو خوشی نہ کبھی رلائیں گے
یہ اداس کا وعدہ ہے جس دن وہ آےگا
ھر گلی و گوشہ اسکا سجائیں گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






