غزل اسدؔ

Poet: محمد اسدؔ علی کوٹمومن By: M Asad ali, Sargodha

اس دل کو یاد تیری ستائے تو کیا کروں
اس دل سے یاد تیری نہ جائے تو کیا کروں

اونچا ہے در تمہارا یہ سمجھایا دل کو ہے
یہ دل سمجھ ہی مجھ سے نہ پائے تو کیا کروں

یہ لوگ پوچھتے ہیں کیوں آنسو بہاتے ہو
اب یاد اس کی مجھ کو ستائے تو کیا کروں

نکلوں تو میں بھی شوق سے اس کی گلی کی سمت
وہ در پہ مجھ کو گر نہ بلائے تو کیا کروں

رستہ تو جانتا ہوں میں اس کے مکان کا
تقدیر ہی نہ مجھ کو لے جائے تو کیا کروں

پردہ گرا بھی دوں میں اگر اپنی چشم پر
یہ دل کرے جو ہائے ہی ہائے تو کیا کروں

ممکن نہیں ہے ملنا اب اُس سے مگر اسدؔ
خوابوں میں آ کے وہ جو رُلائے تو کیا کروں

 

Rate it:
Views: 82
20 Apr, 2026
More Sad Poetry