سسرال کی دہلیز پہ آنکھیں نم رہتی ہیں

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistan

دوستو کی نزر!
سسرال کی دہلیز پہ آنکھیں نم رہتی ہیں
ہر سانس میں خاموش سی اک غم رہتی ہیں

وہ جو کبھی ماں کے آنگن میں ہنستی تھی کھل کر
اب اپنی ہی ہنسی سے بھی بے دم رہتی ہیں

رسموں کے اندھیرے میں جکڑی ہوئی اک لڑکی
اپنے ہی نصیبوں سے اکثر کم رہتی ہیں

نہ شکایت کی اجازت، نہ سہارا کوئی
بس صبر کی زنجیر میں پیہم رہتی ہیں

کبھی آنکھ سے ٹپکا جو آنسو تو چھپایا گیا
یوں درد کی دیواریں بھی باہم رہتی ہیں

“وشمہ” یہ کیسا جہاں ہے کہ خوشی روٹھ گئی
اور خواہشیں بس دل میں ہی مدہم رہتی ہیں
 

Rate it:
Views: 47
19 Apr, 2026
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL