غزل وزل
Poet: Rana Tabassum Pasha(Daur) By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USAتیرے عشق نے کیا ہے بےکل بےکل
لُوٹ گیا تیری آنکھ کا قاتل کاجل
اِک دن تم کو جیت ہی لیں گے
آج تم نے جن کو کہا ہے پاگل واگل
تم نے جو غیر کا ساتھ منظور کیا
تھام لیں گے پھر ہم بھی دست ِ اجل
یہ ہجر کا موسم ہے پیاسی اکھیوں میں
برکھا چھائی ٹوٹ کے برسا بادل بادل
تمہاری دید نے چُندھیا ڈالیں آنکھیں
تم سامنے ہو اور نظروں سے اوجھل
کچھ تو بولو بھید ہے کیا اس بےخودی کا؟
کچھ ہوش کرو سنبھالو اپنا پگلا آنچل
اپنے بسملوں کو تم نے جب بھی دیکھا
دیکھا ڈالے ہوئے اپنی پیشانی پر بَل
دھار کجلے کی ، کوئی کٹار ہے گویا
جگر کے پار ہؤا ہے زلف دا کُنڈل
گھائل کرنےکو تمہارا تیرِنظر ہی کافی تھا
پھر چلا کر تلواریں رعنا کیوں کر ڈالا قتل؟
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







