غزلرات خوابوں میں جو آتا ہے چلا جاتا ہے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiرات خوابوں میں جو آتا ہے چلا جاتا ہے
یوں مرے دل کو جلاتا ہے چلا جاتا ہے
ایسا ظالم ہے کسی بزم میں مل جاۓ تو
مجھ پہ لوگوں کو ہنساتا ہے چلا جاتا ہے
کوئی سنتا ہی نہیں مجھ سے مرا درد کبھی
جو بھی آتا ہے ستاتا ہے چلا جاتا ہے
یار کو لے کے دسمبر کبھی آیا ہی نہیں
یہ بھی کم بخت جلاتا ہے چلا جاتا ہے
رات کے پچھلے پہر کوئی تو دشمن میرا
میری دیوار گراتا ہے چلا جاتا ہے
فاتحہ پڑھنے مری قبر پہ کب آیا ہے
وہ تو بس پھول چراتا ہے چلا جاتا ہے
اس کا احسان ہے باقرؔ اسے فرصت ہو تو
اک نظر چہرہ دکھاتا ہے چلا جاتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






