غضب اسکی آنکھیں ہیں
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTحسن گلاب جیسا ،چودھویں کے چاند جیسی جوانی اسکی
یہی میرے محبوب کا پتہ ہے یہی ہے نشانی اسکی
غضب اسکی آنکھیں ہیں قیامت اسکی ادائیں ہیں
اور تسکین روح کے لئے ہے باتوں میں روانی اسکی
روپ اس روح پرور کا ستاروں میں ہے مشہو ر
اور فلک ہر شب کرتا ہے بیاں کہانی اسکی
دل چاہتا ہے اکثر کسی روز چوم لیں جا کر
وہ سجدے کی جگہ کیطرح پاک پیشانی اسکی
آخر کیوں برا منائیں کیوں سر پکڑ کر بیٹھ جائیں
بات بات پہ روٹھنا تو عادت ہے پرانی اسکی
وہ گلبدن،وہ شیریں سخن،وہ گلاب چمن،جان من
خدا کی خدا ہی جانے صورتیں بنانی اسکی
ہمارے لبوں پر نہ سجی ہسی تو کیا ہوا امتیاز
ہم دیکھ کر ہی جی لیتے ہیں شادمانی اسکی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






