غم امروز
Poet: عنایت الرحمٰن By: عنایت الرحمٰن, ایبٹ آبادیہ دن بھی گزر جائیں گے اک روز، اسے کہنا
ہم لوگ چلے جائیں گے، بس کچھ روز، اسے کہنا
تم کو ہے خبر کیا ، کہ محبت میں ہیں ، کیا دکھ
دل چیر گیا ، اک سانحہ دلدوز ، اسے کہنا
ہم ہوں کہ نہ ہوں کل ، ہر دل کی حکایت
ہر آنکھ بھگو دے گا ، غمِ امروز، اسے کہنا
دن رات ترے رنگیں ہوں نصیبوں کی طرح سے
پھیکے ہیں ترے بعد، اپنے شب و روز، اسے کہنا
بچ پاؤ جو دشمن سے، تو لازم ہے نظر رکھنا
اپنوں کے بھی دامن پہ ، ہو نو آموز، اسے کہنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






