غم دے کر میری ہر خوشی لے گیا وہ
Poet: M.ASGHAR MIRPURI By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAMغم دے کر میری ہر خوشی لےگیا وہ
کیسےمسکراؤں میری ہنسی لے گیا وہ
میری جانب دیوانہ وار کھنچا چلا آتا تھا
اب کیسےبلاؤں میری بانسری لے گیا وہ
اس سےملنےسےقبل اچھا بھلاتھا میں
مجھےتنہا چھوڑ کر میری ہستی لےگیا وہ
اپنی اس حرکت پہ بڑا پچھتا رہا ہو گا
جو میرے دل کی ویران بستی لےگیا وہ
چہرے پہ مردنی سی چھائی رہتی ہے
ایک زندہ دل کی زندہ دلی لے گیا وہ
اصغر کی زیست میں نشیب وفراز بہت تھے
جاتےجاتے میری یہ سردردی بھی لےگیا وہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






