غم محبت کےجزیرے سے یہ کیا لایا تھا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاغم محبت کےجزیرے سے یہ کیا لایا تھا
یادِ ماضی کو ہواؤں میں اڑا لایا تھا
پیار کا راہی مرا راہ میں دم توڑ گیا
مرے زخموں کے لئے آج دوا لایا تھا
میں نے اک بار ہی دیکھا تھا مگر بارِ دگر
وہ تو انبار محبت کے اٹھا لایا تھا
کیوں مجھے ہجر کی دلدل میں یہاں چھوڑ گیا
میرے ہونٹوں پہ اگر ذکرِ وفا لایا تھا
آج مدہوش پڑے ہیں وہ مرے لمس کے ساتھ
"رقص جن کا ہمیں ساحل سے بہا لایا تھا"
میں نے اک بار بھی دیکھا نہ کبھی اس کی طرف
میری تصویر جو آنکھوں میں بنا لایا تھا
میری شاموں میں تری یاد کا ڈھلتا سورج
آج پھر دردِ محبت کو بڑھا لایا تھا
اُس نے کیوں آنکھ چرائی ہے ذرا یہ تو بتا
اپنی چاہت سے جو وشمہ کو اٹھا لایا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






