غم کے اندھیروں میں
Poet: Faisal Mahmood By: Faisal Mahmood Siddiqui, Karachiغم کے اندھیروں میں بن کر تم جگنو آئے
جس طرح ویرانے میں رنگ اور خوشبو آئے
سمٹ جاتی ہے ادا تری حیا کے پیمانوں میں
جونہی نظر میری تیرے سراپے کو چھو آئے
بٹھا کے سامنے تجھے نگاہِ محبت سے پوجتا رہوں
دل میں ہر گھڑی اب یہی آرزو آئے
چشمِ تصور گر تیرے وجود میں کھو جائے تو
تیرے احساس کی مہک پھر کو بہ کو آئے
دمِ آخر اب یہی خواہش رہی فیصل
ہوا دیتا ہوا تیرا آنچل تیرا پلو آئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







