غم کے کتابوں کو نہ کھولا جائے تو اچھا ہے

Poet: ارسلان اکبر By: ارسلان اکبر, Islamabad

غم کے کتابوں کو نہ کھولا جائے تو اچھا ہے
داستان محبت کی نہ کی جائے بیان تو اچھا ہے

وہ کہتے ہیں کہ ہم سے اچھا نہیں کوئی
ویسے کہنے کو تو سارا جہاں اچھا ہے

وفا، غم، یاد، تنہائی لیے بیٹھا ہے مکاں میں
آہ ایسے مکین سے تو لا مکاں اچھا ہے

وہ تڑپتے ہیں روتے بھی ہوں گے ہمارے لئے
اچھا ہے اچھا ہے ویسے گمان اچھا ہے

بہار کی رونق پھر سے زخم تازہ کر گئی
عشق کے ماروں کے لیے تو خزاں اچھا ہے

میں اپنے درد سناتا ہوں غزلوں کے شعروں میں
اور لوگ کہتے ہیں ارسلان کا انداز بیان اچھا ہے

 

Rate it:
Views: 317
24 Dec, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL