غموں کی ایک ریاست کا ہمیں سلطان کہتے ہیں

Poet: MeeR Hassan Khoso By: MeeR Hassan Khoso, JACOBABAD

بچھڑ جانے کا اسکو بھی ہوا ارمان کہتے ہیں
جدائی میں اسی کا بھی ہوا نقصان کہتے ہیں

دکھوں کی ایک دنیا میں ہمارا نام ہے اب بھی
غموں کی ایک ریاست کا ہمیں سلطان کہتے ہیں

ابھی بھی وقت ہے جانا پلٹ کے تم چلی جاؤ
محبت کا سفر اتنا نہیں آسان کہتے ہیں

میں اپنی مخلصی کے ہاتھ سے لٹتا رہا اکثر
یہاں کے لوگ مجھ کو اس لئے نادان کہتے ہیں

اسے ہر دید میں دیکھا اسے ہر سانس میں سوچا
اسے دلبر اسے دلدار ‏اسے دل جان کہتے ہیں

ہم اپنی زندگی کو بھی سمجھ پائے نہیں اب تک
کبھی مشکل سمجھتے ہیں کبھی آسان کہتے ہیں

یہ کیسی دل لگی ہے میر کیسی عاشقی ہے یہ‎ ‎
جو لینا جان چاہتا ہے اسے ہم جان کہتے ہیں

Rate it:
Views: 727
02 Mar, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL