غنچوں کو کچلتے دیکھا

Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, karachi

کس تکبر سے تجھے راہ پہ چلتے دیکھا
تیرے قدموں تلے غنچوں کو کچلتے دیکھا

تلخ لہجہ تو شروع دن سے تیری عادت تھی
آج لفظوں میں تجھے زہر اگلتے دیکھا

بے رخی نظروں میں رکھنا تو تیرا شیوہ تھا
آج شعلوں کو بھی آنکھوں سے برستے دیکھا

خود کشی کے سوا کچھ اور نہ سوجھا اسکو
بھوک کے مارے جو بچوں کو بلکتے دیکھا

اب تلک بنئے ہی دیکھے تھے ٹکوں پر مرتے
آج پیسوں پہ تیرا دم بھی نکلتے دیکھا

تجھ کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ دن یاد آیا
میں نے کلیوں سے تھا شبنم کو ڈھلکتے دیکھا

عید کے دن نئے کپڑوں کی دکاں پر میں نے
یاس و افلاس کے ماروں کو بھی تکتے دیکھا

ڈگڈگی والے کے مٹی کے کھلونوں کے لیئے
کتنے معصوم گلابوں کو مچلتے دیکھا

جو بلاتا تھا ہمیں راہ خدا پر کل تک
اس مبلغ کو بھی کل راہ بدلتے دیکھا

لوگ کہتے ہیں جسے حاتم ثانی اشہر
اس سخی کو بھی غریبوں سے الجھتے دیکھا

Rate it:
Views: 1243
11 Feb, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL