غیرتو غیر تھے جو اپنی حد سے باہرنکلے

Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, islamabad

غیرتو غیر تھے جو اپنی حد سے باہرنکلے
میرے اپنے ہی پرائیوں سے بھی بد ترنکلے

وہ کہ جن سے ہمیں امید ِ گل تھی وابستہ
انہیں ہاتھوں میں ہی اپنے لیے خنجر نکلے

زندگی نے اندھیروں کے سوا کچھ نہ دیا
سبھی راتیں قیامت اور دن مثلِ محشر نکلے

وہ جنہیں ہنسنے کی عادت تھی سرِ محفل
وہ سبھی لوگ پسِ محفل چشم ِ تر نکلے

وحشتِ فِراق سے ہی نہ مل سکی فرصت
وصل کے وہ چند لمحے بھی ہِجر نکلے

مجھ میں اب بھی موجزن ہےدرد کا سمندر
بہت نکلے میرے آنسو مگربےثمر نکلے

رمقِ جاں بچی ہے وہ بھی لےلے اے رقیب
اب کے شائد تیرے دل سے میرا ڈر نکلے

بے حِسی کی جاگیر ہے رضا یہ دنیا ساری
نصیب کے کانٹے میرے ہی چارہ گرنکلے
 

Rate it:
Views: 576
23 Jun, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL