فاصلوں کے یہ سلسلے نہ تم نہ ہم مٹا سکے!!!
Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آباد ,پنجاب, پاکستانفاصلوں کے یہ سلسلے نہ تم نہ ہم مٹا سکے
ہم تم تک نہ پہنچ سکے نہ تم معیار اپنے گرا سکے
وقت تھا کہ گزر گیا لو زخم بھی ذرا سل گیا
تیرا نام مگر ستم گر ہم آج تک نہ بھلا سکے
خاکستر میری سوچ کو کر گئے آلاؤ میری روح کے
محسوس تو بھی کرے کبھی کاش تو بھی خود کو جلا سکے
تیری اداؤں کی نذر صنم جان و دل جس کا ہوا
اس سے نظر ملا کبھی تجھے حال اپنا پڑھا سکے
کوئی دعا ہو ایسی میرے ہم نشیں کوئی دوا ایسی میرے طبیب بھی
میرے راستوں کے سلسلے جو میری منزلوں سے ملا سکے
اس محبت میں عروج کہاں اس وفا میں بھلا سرور کہاں
ڈوب کر جس میں کوئی نہ خود کو کبھی گنوا سکے
ایسا عنبر اہل ء ظرف کوئی اور صاحب ء کردار کہاں
ہم سے اہل ء دل سے جو جان و جگر سے نبھا سکے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






